Wednesday, 8 July 2015

Real Problems of Ramazan Ul Mubarik!..... رمضان المبارک کے حقیقی مسائل!

عصر کی نماز کے بعد مسجد میں درسِ قرآن تھا، میں چونکہ پہلی صف میں موجود تھا اور مجھے لوگوں کی گردنوں سے پھلانگ کر باہر جانا معیوب محسوس ہو رہا تھا، اسی لئے میں بیٹھا رہا۔ درس تو پانچ، دس منٹ میں ہی ختم ہوگیا لیکن اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوگیا جو کچھ دیر تک چلتارہا۔ علامہ صاحب کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے لوگوں نے رمضان المبارک کے مسائل کے حوالے سے سوال پوچھنا شروع کردئیے۔ حاجی صاحب نے سب سے پہلے سوال کیا کہ اگر میں روزہ سعودیہ میں رکھتا ہوں اور واپس لاہور آجاتا ہوں تو میں افطار لاہور کے وقت کے حساب سے کروں گا یا پھر سعودیہ کے حساب سے؟ علامہ صاحب نے بتادیا کہ روزہ جہاں پر افطار کیا جائے گا، اُسی شہر کے حساب سے افطار کریں گے خواہ کہیں پر بھی رکھا گیا ہو۔
میں نے مُڑ کر حاجی صاحب کو دیکھا اور کچھ دیر ان کے سوال پرغور و فکر کرتا رہا کہ سننے میں تو یہی آیا تھا کہ حاجی صاحب نے اپنے مرحوم بھائی کے پلاٹ پر ’’قبضہ‘‘ کر رکھا ہے اور اُن کے یتیم بھتیجے، بھتیجیاں لوگوں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہیں مگر حاجی صاحب ہر سال حج اور رمضان میں عمرہ باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ شاید اُنہیں کسی نے یہ مسئلہ نہیں بتایا تھا کہ اگر حرام کا ایک لقمہ بھی پیٹ میں ہو تو روزہ تو کیا، حج وعمرہ بھی قبول نہیں ہوتا مگر ۔۔۔۔
خیر اگلا سوال قریشی صاحب کا تھا کہ روز ے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزے پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا؟ قریشی صاحب کی بازار میں گوشت کی دکان تھی اور یہ بات علاقے کے تھانے میں موجود میرے دوستوں کے ذریعے ہی میرے علم میں آئی تھی کہ اس پورے علاقے میں سب سے زیادہ بار قریشی صاحب کو ہی حرام و مردار گوشت فروخت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور ہر بار یہ ’’نذرانہ‘‘ دے کر چھوٹ گئے۔ مجھے سختی سے ہدایات تھیں کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے قریشی صاحب کی دکان سے گوشت نہیں لینا کیونکہ ایک طرف تو یہ خود ایسا گوشت فروخت کرتے تھے دوسری طرف انہوں نے ایک غیر قانونی مذبحہ خانہ بھی قائم کر رکھا تھا جہاں پر غیر قانونی طور پر مردار اور گدھے وغیرہ فروخت کرکے انہیں مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا ہے مگر آج تو وہ ٹوتھ پیسٹ کے روزے پر اثر کے حوالے سے پریشان نظر آ رہے تھے۔ علامہ صاحب نے بتادیا کہ اگرچہ ٹوتھ پیسٹ سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر بازار میں کچھ فلیورڈ ٹوتھ پیسٹ بھی ہوتی ہیں جن کا ذائقہ منہ میں رہ جاتا ہے اور وہ تھوک کے ساتھ حلق سے نیچے اترنے کا خدشہ رہتا ہے اسی لئے بہتر ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے لیکن اگر کوئی روزے کی حالت میں برش کرلیتا ہے کہ اس کے روزے پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اس کے بعد خان صاحب نے اپنا سوال پوچھا کہ اگر کوئی ایک ہی روزے میں ایک سے زائد بار بھول چوک کر کچھ کھا لیتا ہے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ علاقے میں خان صاحب کی وجہ شہرت سود کے کاروبار کے حوالے سے تھی اور کئی غریب ان کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے۔ جو ایک مرتبہ ان سے سود پر قرض لے لیتا وہ پھر تمام عمر سود ہی ادا کرتا رہتا تھا اور میں نے کم از کم کسی کو بھی سود پر قرض لے کر بعد میں وہ قرض ادا کرتے نہیں دیکھا تھا مگر خان صاحب کے ’’کاروبار‘‘ میں خدا خوب برکت ڈال رہا تھا اور اسی باعث وہ تقریباً ہر سال ہی علاقے میں ایک نیا مکان خرید رہے تھے۔ علامہ صاحب نے مسئلہ بتاتے ہوئے جواب دیا کہ روزے کی حالت میں بھول چوک سے خواہ کتنی بار ہی کچھ کھا، پی لیا جائے روزے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
پھر زاہد صاحب نے سوال کیا کہ اگر بالفرض کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ پر قرآن پاک پڑھا جاتا ہے تو کیا اس کے لئے بھی وضو کرنا پڑے گا؟ زاہد صاحب ایک سرکاری ملازم تھے اورابھی کل کی بات ہے کہ میں نے دیکھا وہ صبح نو بجے گھر سے آفس گئے۔ بارہ بجے کے قریب میں ان کے آفس گیا، ان سے کوئی کام تھا تو پتہ چلا کہ وہ گھر واپس جاچکے ہیں۔ میں حیران ہوا کر ادھر موجود شخص سے دریافت کیا تواس نے بتایا کہ رمضان المبارک میں آفس بس اتنی دیر ہی کام ہوتا ہے۔ اب جو فائلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ رمضان کے بعد ہی کلیئر ہوںگی۔ خیر علامہ صاحب نے مسئلہ بتادیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کیلئے وضو کمپیوٹر یا ٹبیلٹ تو کیا قرآن کریم کیلئے بھی قطعا ً کوئی شرط نہیں ہے اس کیلئے پاکی ہی واحد شرط ہے لیکن احتیاط و ثواب کا تقاضا یہی ہے کہ باوضو ہو کر ہی قرآن کی تلاوت کی جائے۔
زاہد صاحب کے بعد مطیب صاحب نے اپنا سوال پوچھا کہ اگر کوئی روزے کی نیت کرنا بھول جاتا ہے تو کیا روزہ ہوجائے گا؟ مطیب صاحب علاقے کی مارکیٹ میں سب سے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے مالک ہیں اور اکثر لوگوں کو ان سے ناجائز منافع خوری، دو نمبر مال کی فروخت اور ذخیرہ اندوزی جیسی شکایات تھیں لیکن آپس کی بات ہے کہ میرا وہ بہت دید لحاظ کرتے ہیں۔ میں جب بھی جاتا ہوں مجھے ایک تو وہ اچھا سودا دیتے ہیں اور پھر باقی گاہکوں کی نسبت جلدی فارغ کردیتے ہیں۔ البتہ میں بیشمار لوگوں سے ملا ہوں جنہوں نے ان کے بارے میں ایسی ہی منفی رائے دیں۔ اُن میں سے ایک ان کی دکان کا سابق ملازم تھا۔ اسی نے مجھے کل یہ بھی بتایا کہ انہوں نے دو ماہ پہلے جو گودام کرائے پر لیا تھا وہاں پر صرف آٹا اور چینی ہی پڑی ہے جو دو ماہ پہلے ہی انہوں نے اسٹاک کرلی تھی۔ علامہ صاحب نے سوال کے جواب میں یہی بتایا کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبانی نیت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہم سحری میں اُٹھنے کا اردہ رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم فرض روزے کی نیت کرچکے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ مسئلہ بھی بتا دیا کہ صرف فرض روزے کی نیت کرنا ضروری ہے، نفل روزے کیلئے نیت کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔
لوگ علامہ صاحب سے سوال پوچھ رہے تھے اور وہ ان کے جواب دے رہے تھے اور لوگوں کے چہرے پر خوشی سے محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا دین ان سوالات میں ہی چھپا ہوا تھا جس پر انہوں نے عمل کر لیا۔ میں مستغرقِ فکر یہ سوچ رہا تھا کہ کیا ہمارے حقیقی مسائل یہ ہیں؟ کیا ہمیں افطار کے وقت، ٹوتھ پیسٹ، روزے میں بھول چوک کر کھانے پینے، قرآن کی تلاوت کیلئے وضو اور روزے کی نیت جیسے سوال پوچھنا چاہئیں یا پھر پوچھنا چاہئے کہ اگر کوئی یتیموں کا مال غصب کرتا ہے، کوئی حرام مال فروخت کرتا ہے، کوئی سود کھاتا ہے، کوئی اپنے کام کے ساتھ دیانتداری نہیں کرتا، کوئی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کرتا ہے، کوئی جھوٹی قسمیں کھاتا ہے، کوئی ملاوٹ والی اشیاء بیچتا ہے، کوئی محض روزے کے باعث لوگوں کو کاٹ کھانے کودوڑتا ہے، ان سے بداخلاقی سے پیش آتا ہے، افطار کے وقت ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑا دیتا ہے، لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے، سارا دن بیٹھ کر لوگوں کی چغلیاں اورغیبت کرتا ہے تو کیا اس کا روزہ ہوجائے گا؟ افسوس کہ ہم فروعی مسائل میں الجھ گئے اور حقیقی مسائل کو فراموش کردیا۔ ہم نے رمضان کو محض فاقہ کشی اور بھوک ہڑتال کا مہینہ بنا لیا اور خدا کے اس حکم کو بھلا دیا کہ ’’جو(روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا، اس پر عمل کرنا اور جہالت کے کاموں کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ وہ اس کیلئے اپنا کھانا پینا ترک کردے‘‘۔

Tuesday, 7 July 2015

Blessed & Better Month : Ramazan Ul Mubarik....برکت والا افضل مہینہ

رمضان المبارک کا مبارک مہینہ  2005 جب پاکستانی قوم ملک میں زلزلے کی تباہ کاریوں سے بے چین ہوگئی تھی،آنکھیں اشکبار تھیں، دل غم سے بوجھل اور سب ایک ہوکر اپنے بھائیوں کی مدد میں جت گئے۔ یہ بات بڑی عجب سی تھی کہ اتنا مبارک مہینہ اور پاکستان کے ایک خطے میں ایسی قیامت وہ بھی قدرت کی جانب سے؟
2015 رمضان المبارک کا مہینہ نہ زلزلہ نہ سیلاب نہ طوفان۔ پھربھی صرف کراچی میں گرمی کی شدت سے مرنے والوں کی تعداد سو سے نکل کر ہزار کے ہندسوں میں داخل ہوگئی؟
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ملک شام کے قریب مدین میں آباد تھی، رب العزت نے ان لوگوں پر بڑی نعمتیں فرمائی تھیں گھنے باغات، جنگلات عطا فرمائے تھے اسی لیے یہ قوم ’’اصحاب الأیکہ‘‘ بھی کہلاتی تھی، ان کے یہاں رب العزت نے تجارت میں بھی بڑی برکت رکھی تھی، غرض ایک خوشحال قوم تھی لیکن اس قوم نے خدا کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری شروع کردی، جس کی انتہا ہوگئی، تجارت کرتے تو بے ایمانی کرتے منافعے کے باوجود ناپ تول میں ڈنڈی مارتے تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ اسی طرح لیتے ہوئے بھی زیادہ لینے کی کوشش کرتے جو حق سے آگے تک چلا جاتا، تجارتی قافلوں کو لوٹتے ان کا مال چھین لیتے، اس قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو رسول بناکر بھیجا گیا۔
آپ کو اپنی قوم کی ان نافرمانیوں پر شدید غم تھا آپ نے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی شدید کوشش کی اور سمجھایا کہ صرف ایک مالک کی عبادت کرو اور ناپ تول میں کمی نہ کرو، لوگوں کا مال نہ لوٹو۔ لیکن ان کی قوم نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ تم بڑے سمجھدار ہو۔کیا تمہاری نماز تم کو یہی سکھاتی ہے کہ ہم برسوں سے ہونے والے بتوں کی پوجا چھوڑدیں؟ اور ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی بھی نہ چلائیں؟ حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو ڈرایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بداعمالیوں کی وجہ سے تم پر بھی ہولناک عذاب آجائے جیساکہ تم سے پہلے قوم نوح علیہ السلام، قوم ثمود اور قوم لوط پر آیا تھا۔ قوم نے کہا کہ اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو تم کو ہلاک کردیتے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہیں میرے قبیلے کا اللہ سے زیادہ لحاظ ہے اور تم اللہ کو بالکل بھلا چکے ہو۔
وہ بگڑی قوم باز نہ آئی تو عذاب کو (بادل کے ) سایہ کی شکل میں ان کی طرف بھیجا گیا لوگ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ اب بارش ہوگی،گرمی دور ہوجائے گی، باغات ہرے بھرے ہوجائیں گے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ (بادل کا سایہ) سایہ اللہ کی رحمت نہیں بلکہ اس کا عذاب لارہا تھا۔ جس کے ساتھ ہی ایک زوردار چیخ اور زلزلے نے نافرمانوں کو ہلاک کردیا ان کی بستیاں ایسے ہوگئیں جیسے کبھی یہ لوگ یہاں بسے ہی نہ ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے اس عذاب سے بچا لیے گئے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم سے پہلے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جو فلسطین کے قریب عمورہ اور سروم کی بستیوں میں آباد تھیں بے حیائی کا شکار تھیں اور حضرت لوط کے سمجھانے کے باوجود راہ راست پر نہ آئی تو رب العزت کی جانب سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ بستیاں اٹھا کر پٹخ دی گئیں آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ آج بھی ہم مدین اور بحر مردار کے قریب ان دونوں قوموں کے عبرت کے نشان دیکھ سکتے ہیں۔
آج ہم جس دنیا میں بستے ہیں ہمیں انسانی ذہن کی عقل وشعور اور اس کی ایجادات پر بڑا غرور ہے ہمیں غرور ہے کہ اگر گھر یا آفس سے باہر آگ برس رہی ہے توکیا ہوا۔ ہمارے پاس تو اے سی ہے لیکن کراچی والے گواہ ہیں کہ جس روز کراچی میں 46 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی پڑ رہی تھی کتنے لوگوں کے اے سی چل رہے تھے اس دن اے سی کی ٹھنڈا کرنے کی طاقت جیسے سلب ہوگئی تھی، یہ اموات یہ ہیٹ اسٹروک ہمارے لیے محض گرمی نہیں ہے بلکہ عذاب الٰہی ہے۔
بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ہم اسے اپنے منہ سے ادا کرتے اچھا محسوس نہیں کرتے لیکن ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے ان ہی بہت سی باتوں میں نجانے کتنی باتیں پوشیدہ ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ عذاب ہم پر کیوں نازل ہو رہا ہے ۔سائنسدانوں کی جانب سے مستقل گلوبل وارمنگ کا الارم بجایا جا رہا ہے لیکن ایسا کیوں ہو رہا ہے پاکستان میں کیا کراچی ہی خط استوا سے اتنا نزدیک ہے کہ اس کا درجہ حرارت اتنے بلند درجوں پر پہنچ گیا کہ لوگ اپنے ہی گھروں میں گرمی کی شدت سے دم گھٹنے سے مرنے لگے، گھروں میں بجلی نہیں، پانی نہیں، گھر چھوٹے، ہوا کی آمد و رفت کا کوئی سلسلہ نہیں، کتنے لوگ میرے آپ کے جاننے والے چھوٹے دکاندار، غریب، مستری، پلمبر، مزدور، خوانچہ فروش گرمی کی شدت کا شکار بنے۔
اس دنیا میں ہم پر ہمارے نبی کریم حضور اکرم ﷺ کی وجہ سے ہمیں جو ریلیف ملا ہے ہمیں اس کا ذرا بھی احساس نہیں انسان کو اس کے عمل کی آزادی دی گئی تھی، اس آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہ تھا کہ بے سونڈ کے ہاتھی کی مانند جہاں دل چاہا گھس گئے بلکہ یہ تو ہمارے لیے امتحان ہے کہ کون اس آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور یہی استعمال ہر انسان کی رپورٹ تیار کرتا ہے مثلاً اگر میں ایک غریب خوانچہ فروش ہوں فالسے بیچتا ہوں لیکن تولتے ہوئے کم ازکم میں ہلکا باٹ استعمال کرتا ہوں یا تول میں ڈنڈی مار سکتا ہوں کیونکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ تو میرا حق ہے میں کتنا غریب ہوں میں اپنی آزادی کو اس حد تک تو استعمال کرسکتا ہوں لیکن اس آزادی کی پاداش میں جسے میں نے منفی انداز میں استعمال کیا میری زندگی کی فائنل رپورٹ میں رب العزت کی جانب سے کیا ریمارکس لکھ دیے گئے اس کا مجھے خیال ہی نہیں۔
کیا ایک خوانچہ فروش اور کیا ایک ذمے دار وزیر سب کی اپنی اپنی آزادی کی حد ہے، اسے کون استعمال کرتا ہے منفی انداز میں یا مثبت انداز میں اس لیے کہ برکت دینا اوپر والے کا کام ہے یہ ہمارا کام نہیں، کہاں کہاں کیسے کیسے یہ برکت ہماری آبادیوں میں سرائیت کرتی ہے ہم اتنے مصروف ہیں کہ ہمارے پاس تو سوچنے کے لیے بھی ٹائم نہیں یقینا قوم لوط اور قوم شعیب کے پاس بھی ٹائم نہ ہوگا؟

Monday, 6 July 2015

This Thirst Hunger And Hard Working For What?...., ...یہ بھوک پیاس، مشقت کس لیے؟

ہمارے معاشرے میں عبادات عموماََ ایک رسم و روایت کے طور پر ادا کی جاتی ہیں۔ ان عبادات کے بجا لانے والوں کی اکثریت اس بات پر غور نہیں کرتی کہ ان عبادات کا مقصد کیا ہے؟ ان میں کیا حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم ان عبادات کے مقاصد اور فوائد کو جان لیں تو یہ ایک رسم و روایت سے بڑھ کر ہمارا ذوق بن جائیں، اس طرح ہم عبادت کا صحیح لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ رمضان المبارک کا ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر آنا ہماری خوش نصیبی ہے۔
ویسے تو سال کے 12 مہینے ہی نیکیوں کے ہوتے ہیں لیکن رمضان المبارک کو نیکیوں کا موسم بہار کہتے ہیں۔ اس ماہ میں کی جانے والی ہر نیکی ایک خاص امتیاز رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس کے نیک عمل کا بدلہ 70 گناہ اضافی دیتے ہیں۔ اس مہینے میں کی جانے والی سب سے بڑی نیکی روزہ ہے۔ روزے کی اہمیت جاننے کے لئے تین باتوں کا علم ضروری ہے۔ روزہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کب سے ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سب سے قبل لوگوں پر فرض کئے گئے، تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘
اگر قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ پر غور کیا جائے تو ہمیں تینوں باتوں کے جوابات مل جائیں گے۔ روزے کو عربی میں صوم کہا گیا ہے جس کے معنی’’رکنا‘‘ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث ایسی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ روزے کا مطلب رکنا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں روزے کے اصطلاحی معنی ایک ایسا عمل جس میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے، مباشرت سے رکے رہنا روزہ کہلائے گا۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے حلال قرار دی ہیں لیکن روزے میں ان سے باز رہنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جملہ قسم کی بد اعمالیاں تو بحیثیت مسلمان روزے اور غیر روزے دونوں حالتوں میں ان سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر کوئی روزہ دار ان کاموں سے نہیں رکتا تو اس کا روزہ شرعاََ ہے نہ لفظاََ۔
اس تفصیل سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ روزہ کیوں ہے؟ اس بات کا جواب ہمیں مذکورہ بالا آیات کے آخر میں مل رہا ہے ’’تاکہ تم متقی بن جاو‘‘۔ تقویٰ کا مطلب ہے ’’بچنا‘‘، کسی بھی نیک عمل کے اَجر و ثواب ضائع ہونے کے ڈر سے اسے ترک کرنے سے بچنا اور کسی بھی بُرے اور ممنوع کام پر ملنے والی سزا کے ڈر سے اسے کرنے سے بچنا۔
انسان کو شرفِ انسانیت محض اِس تقویٰ کی بنا پر ملا ہے اور یہی تقویٰ تمام عبادات کا سبب بھی ہے اور ان عبادات کا حاصل بھی ورنہ ہوش حواس میں ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت کے بعد حق بندگی ادا نہ کرنے والوں کو قرآن مجید نے جانوروں سے بھی بدتر کہا ہے۔ اس لئے شرف انسانی کے لئے تقویٰ کا جوہر ضروری ہے اورتقویٰ عبادت سے حاصل ہوتا ہے۔ روزہ بھی حصول تقویٰ کا ذریعہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ روزہ بھی ایک عبادت ہے اور اگر روزہ عبادت ہے تو انسانیت کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت الٰہی ہے۔ لہٰذااس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سے انسان ہے تب سے روزہ ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کا تذکرہ ایسے ہے کہ ’’جیسے تم قبل لوگوں پر فرض کئے گئے‘‘۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے کی اُمتوں میں بھی روزہ حصولِ تقویٰ کا ذریعہ رہا ہے۔ یہ ایک باطنی عبادت ہے یعنی اگر کوئی انسان دوسرے انسان سے ملے اس کے ظاہر کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ روزے سے ہے یا نہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے روزے کو اپنی مخصوص عبادت قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، مطلب یہ کہ باقی اعمال کا أجر فرشتے لکھتے ہیں لیکن اس عبادت کا أجر اللہ تعالیٰ رب العلمین خود مختص کرتے ہیں۔
ماہ رمضان کے روزے چند دن کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزے کا مقصد تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اس عملِ صالح کے ذریعے تمہارے لئے دین و دنیا میں آسانیاں پیدا کرنا مقصود ہے۔ گنتی کے چند دنوں سے مراد یہ ہے کہ روزے کے تمام معاملات وہی ہونگے جو شریعت نے ہم پر لاگو کردیئے ہیں۔ انسان اگر ماہ رمضان کے روزے جو فرض ہیں ان کی تعداد میں کمی پیشی نہیں کرسکتا تو اُس کے قواعد و ضوابط اور احکام میں کیوںکر من مانی کی جاسکتی ہے۔ ہاں جن معاملات میں شریعت نے روزے کے بارے میں جو رخصت دی ہے وہ رخصت ہمارے لئے قبول کرنا ضروری ہے اور یہ ہماری آسانی کے لئے ہے۔
روزہ اخلاقی لحاظ سے تربیت و تزکیہ کا ایک بہترین عمل ہے، ماہ رمضان کی تربیتی ورکشاپ میں یہ سبق سکھایا جاتا ہے کہ حلال و حرام میں تمیز اور خواہش نفس کو قابو کرنا کیسے ممکن ہے۔ پھر اِس تربیت کا اثر دیگر گیارہ ماہ بھی پر رہتا ہے، بشرطیکہ ٹریننگ کے دوران تمام قوائد و ضوابط پر صحیح طرح عمل کیا گیا ہو، جسمانی لحاظ سے روزہ بھوک، پیاس کو برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے جس سے کسی مشکل کی صورت میں اس کو جھیلنے کی ہمت کے علاوہ معدے اور جسمانی بیماریوں سے بچاو بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ یہ عمل روح اور جسم کو آلودگیوں سے پاک کرکے نکھارتا ہے اور انسان کی زندگی کو اعتدال میں لاتا ہے، رب کی جنتوں کے حصول اور جہنم سے آزادی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایمان اور صحیح عقیدے کے ساتھ رمضان کے لیل و نہار سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے کیے گئے تمام اعمال صالحہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

It Is Possible To Change Ourselves In This Ramazan Ul Mubarik...کیا یہ ممکن ہے کہ اِس رمضان میں ہم خود کو تبدیل کرلیں؟

ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ آن پہنچا ہے۔ اس ماہ کی اہمیت کو اگر ایک سطر میں بیان کیا جائے تو بهی اس قدر زیادہ ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمانوں کو دن میں پانچ وقت نماز پڑھنے، سال بعد زكوة‎ اور استطاعت رکھنے پر حج کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ان سب عبادات کا ثواب طے کردیا گیا ہے سوائے روزے کے، اس بات سے رمضان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
رمضان کی آمد سے قبل حکومت نے مہنگائی میں اضافہ کردیا یا ٹی وی چینلز نے طرح طرح کے پروگرام شروع کردیے، اس پر بحث کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں. آج کیوں نہ ہم اپنے رویے پر بھی نظرِ ثانی کر لیں۔
رمضان کی آمد سے قبل ہی ہم میں سے اکثریت نے ہر سال کی اپنی ’’تیاری‘‘ بھی خوب کرلی ہو گی۔ جی ہاں! ہر سال کی طرح اس سال بھی اکثریت نے بڑے بڑے اسٹورز کا رخ کیا جہاں پہلے سے ہی صارفین کے لیے رمضان کی آفرز مہیا تھیں۔ ہر سال کی طرح بیسن کے پیکٹ، کیچپ کی بوتلیں، چکن نگٹس اور سموسوں کے بنے بنائے پیکٹ، افطار میں پیاس بھجانے کے لیے جامِ شیریں اور مشروبات کی بوتلیں، فروٹ چاٹ کے لیے چاٹ مصالہ سمیت کوئی بھی ’’ضروری چیز‘‘ اپنی شاپنگ لسٹ سے رہنے نہیں دی۔
یہ تو تھی ’Pre- Ramazan‘ یعنی رمضان سے پہلے کی تیاری، لیکن رمضان شروع ہوتے ہی ہم نے کیا کیا؟
سب سے پہلے دوستوں کو ’’رمضان مبارک‘‘ کے پیغامات بھیجیں، پہلی سحری کی گرما گرم ڈشز فیس بک کی نظر کیں، روزہ لگنے پر ’’فیلنگ پیاس‘‘ کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کریں گے اور افطاری کے رنگا رنگ کھانوں کی تصاویر اپلوڈ کرکے پہلا روزہ مکمل کریں گے۔
اب جوں جوں دن گزریں گے افطاری پر بلانے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ماموں، بھائی، چاچو، کولیگ، دوستوں یاروں کو افطاری پر بلا کر اپنا اپنا ’’حقِ افطاری‘‘ خوب نبھایا جائے گا اور جس کو پچھلے سال ہم نے افطاری پر بلایا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تو اُس کو بالکل بھی منہ نہیں لگائیں گے۔
جیسے ہی دوسرا عشرہ تیسرے عشرے کی جانب بڑھے گا، ہم بھی بازاروں کا رخ کرلیں گے. افطاری کے کھانوں کو ہضم کرنے کے لیے بازاروں میں چہل قدمی کی جائے گی۔ یہ مرحلہ ’’Pre-Eid‘‘ کا ہوگا جس میں رنگ برنگے پہناوے بنائے جائیں گے۔
اب ایک چھوٹا سا سوال ہم خود سے پوچتے ہیں کہ کیا یہ سب صرف اس دفعہ ہوگا؟ یا پچھلی بار بھی ہوا تھا؟ جناب عالی! یہ ہر سال ہوتا ہے۔ رحمتوں اور برکتوں کے اس مہینے کو ہم نے پکوڑوں، سموسوں، کھجوروں اور عید کی تیاری کے طور پر جاننا اور گزارنا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔
سوال صرف اتنا ہے کہ اس بار کیا ہم کچھ الگ کرسکتے ہیں؟ اپنی اس عادت کو بدل سکتے ہیں؟ اپنی پلیٹ کے اضافی پکوڑے یا اپنے جام کا اضافی مشروب کسی بھوکے، نادار، غریب اور ضرورت مند کے پیٹ کی جائز ضرورت بنا سکتے ہیں؟ کیوںکہ رمضان کا پیغام ہی اِن کی بھوک محسوس کرنا ہے جنہیں سارا سال پیٹ بھر کے کھانا نصیب نہیں ہوتا ہے اور ان کی پیاس محسوس کرنا ہے جنہیں سارا سال صاف پانی بھی میسّر نہیں ہوتا، نہ کہ طرح طرح کے کھانے اور پہناوے بنانے کا۔
پسِ تحریر: آپ اگر سیاست دان ہیں، تاجر ہیں یا پھر دکاندار ہیں اور ہر سال اس مہینے کو بھی نہیں بخشتے تو کم از کم اس دفعہ یہ عادت ضرور بدل لیں، اگر استاد ہیں تو آپ کا فرض ہے کہ اپنے طالبعلموں کو اس مہینے کی اصل روح اور پیغام سے آشنا کریں۔

Taraweh Prayer & Holy Quran Recitation .... ٹکریں کیوں مارتے ہو؟

کوئی باقی سال نماز پڑھے نہ پڑھے لیکن رمضان میں ضرور پڑھتا ہے۔ وہ بھی مسجد جاکر، یہ ماہ رمضان کی برکت ہے کہ اس میں مساجد خوب آباد ہوجاتی ہیں۔ صرف مساجد ہی نہیں بلکہ شہر میں بہت سی کھلی جگہوں پر بھی تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماشاءاللہ پاکستان میں حفاظ کثرت سے ہیں اور ہر حافظ قرآن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک میں قرآن مجید ضرور سنائے۔ اس لیے مساجد کے علاوہ بھی تروایح کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ بلکہ گزشتہ برس اور اس سال احباب میں سے بہت سے حفاظ کرام پاکستان سے باہر دوسرے ممالک میں بھی تروایح پڑھانے کے لیے گئے۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد نے مالدیپ کا رخ کیا جسے دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔
بڑے شہروں اور بالخصوص صنعتی و تجارتی علاقوں میں ایک نیا رواج رمضان میں بڑی کثرت سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آپ بھی آمد رمضان کے ساتھ جگہ جگہ پانچ روزہ، تین روزہ، سات روزہ، دس روزہ تراویح کے اہتمام کے بینروپینافلیکس لگے دیکھتے ہوں گے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اِس طرح کی مختصر تراویح کو پڑھنے کے بعد لوگ تروایح پڑھنا یا مسجد جانا ضروری نہیں سمجھتے۔
ایسی سوچ رکھنے والوں کے لیے عرض ہے کہ بھائی نماز کی فرضیت یا مسجد جانا روزے یا رمضان کے ساتھ مشروط نہیں بلکہ یہ تو سب سے اہم اسلام کا فریضہ ہے جو ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و خاتون پر پورا سال فرض رہتا ہے۔ خواتین کے لیے نماز کی جو رخصت ہے اس کو اس میں سے استثنیٰ حاصل ہے۔ آپ صرف روزے کی وجہ سے نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور چند دن میں تروایح پڑھ کر آپ سمجھتے ہیں کہ قیام الیل کا سارا ثواب حاصل کر لیا تو یہ عمل اجر و ثواب سے زیادہ جان چھڑانے والا معاملہ ہے۔
نبی ﷺ نے ماہ صیام کی راتوں میں ایمان و أجر کی نیت سے قیام کرنے والوں کو یہ بشارت دی ہے کہ ان کے تمام سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کچھ لوگ نماز تراویح پڑھتے ہی نہیں اور کچھ پڑھنے کے لیے تو جاتے ہیں مگر مختصر سی نماز کے بعد مساجد میں ہی گپ شپ میں مصروف ہوجاتے ہیں اس بات کا لحاظ کیے بغیر کہ ان کی باتوں اور فضول حرکتوں سے کسی کی عبادت میں خلل واقع ہو سکتا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن ان کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ عبادت ان پر ایک بوجھ ہے جس کو وہ جلد از جلد اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اتنی تیز اور بغیر رکوع و سجود کے نماز پڑھنے میں عوام کے علاوہ ہمارے آئمہ کرام کا بھی قصور ہے۔ نماز تراویح میں قرآن کو اس قدر تیز پڑھا جاتا ہے کہ نماز کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ جہاں تین یا پانچ دن میں تروایح میں مکمل قرآن پڑھا جائے گا تو کیا اس کا پڑھنے والا یا سسنے والا قرآن مجید کی تلاوت کا حق ادا کر پائے گا؟ حالانکہ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے اور رکوع و سجود کو بھی نہایت اطمینان سے کرنا چاہیے۔ رکوع، سجود، قومہ، جلسہ اور قیام و قعود بھی نماز کے ایسے ارکان ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا نماز تراویخ میں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید ختم کرنے کے چکر میں نماز کے رکوع و سجود کو پورا نہ کرنے کی چوری اور تلاوت قرآن مجید کا حق ادا نہ کرنا، بجائے ثواب کے کہیں باعث گناہ وعتاب نہ بن جائے۔
رمضان کی آخری دس راتوں کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ ہمیں ان دس راتوں میں قیام پر حریص ہوجانا چاہئے۔ کیوں کہ ان میں لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر و افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ رب کے سامنے کھڑے ہونے اور اس کو منانے کے یہ لمحات بھی ہم ضائع کر دیتے ہیں۔ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اکثر مساجد میں محفل شبینہ منعقد کی جاتی ہیں اور ساری ساری رات مساجد کے لائوڈ اسپیکروں میں علماء کے وعظ اور حمد و نعت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جس سے نہ اس محفل کا کوئی فرد قیام الیل کرسکتا ہے بلکہ محلے میں موجود دیگر عبادت کرنے والوں کے خشوع و خضوع میں فرق آتا ہے۔
ساتھ ساتھ کوشش کریں کہ بلا عذر کوئی روزہ نہ چھوڑیں، زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ بُرے دوستوں سے دور اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو افطار کروانا چاہیے یہ باعث أجر ہے۔ صدقہ و خیرات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور اس عظیم عمل کے احترام میں غیر شرعی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بابرکت ماہ کی تمام نیکیاں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Saturday, 4 July 2015

Diabetes Patient and Ramazan Ul Mubarik...ذیابیطس کے مریض اور رمضان کے روزے

کراچی: بیسویں صدی تک عام خیال تھا کہ ذیابیطس اور دل کے مریض روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں ایپیڈار ( ایپڈیمولوجی آف ڈائی بیٹس اینڈ رمضان)  اسٹڈی اور پاکستان میں مقامی سطحوں پر کیے گئے مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ دل اور شوگر کے مریض اپنے ڈاکٹروں کے مشورے اور رہنمائی سے ماہِ صیام کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹ سکتے ہیں۔
ذیابیطس اور روزے کے چار چیلنج:
ذیابیطس کے مریض کو روزے  میں ممکنہ طور چار بنیادی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے ان میں سے ایک خون میں شکر کی مقدار میں کمی ہے جسے ’’ہائپوگلائیسیمیا‘‘ کہا جاتا ہے، ملک بھر کے مختلف اسپتالوں کی جانب سے کیے گئے مطالعات سے یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ  عام دنوں کے برعکس رمضان میں ذیابیطس کے مریضوں میں روزہ رکھنے کے باوجود بھی  شوگر کی کمی کے واقعات زیادہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعداد عام حالات کے تحت ہی ہوتی ہے تاہم شوگر کی مقدار ان لوگوں میں زیادہ کم ہوتی ہے جو رات کو اچھی طرح کھانا نہیں کھاتے اور سحری نہیں کرتے۔ یا سحری میں تاخیر سے اُٹھنے پر صرف دوا کھاتے ہیں اور کھانا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ سحری کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ روزے میں غیرمعمولی مشقت سے خون میں شکر کی سطح کم ہوجاتی ہے۔
دوسری کیفیت میں خون میں شکر کی مقدار کا بڑھ جانا ہے جسے ’’ہائپرگلائسیمیا‘‘ کہا جاتا ہے اس کے نتیجے میں مریض کوما میں جاسکتا ہے جب کہ ٹائپ ون کا کوما بہت جلدی واقع ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں ہفتہ 10دن تک شوگر بڑھتی رہتی ہے اور کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ یہ بڑھتے بڑھتے اس درجے پر پہنچ جاتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
شوگر کے مرض میں تیسری پیچیدگی کا تعلق موسم سے ہے اور اس وقت پاکستان میں موسمِ گرما ہے جس کے باعث گرمی اور پسینے سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے ۔گرمی میں عام افراد کوتو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہی ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں میں یہ مسئلہ بہت جلد بڑھ جاتا ہے اس لیے ایسے افرادکو چاہیے کہ افطار کے بعد سے سحری ختم کرنے تک اپنے جسم میں پانی کی مقدار پوری کریں۔ گرمی کے موسم میں بہت مشقت اور پسینہ بہانے سے گریزکریں۔
شوگر کے مرض کا چوتھا مسئلہ جسم میں خون کے لوتھڑے بننا ہے، گرمیوں اور پانی کی کمی سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کے لوتھڑے بن سکتے ہیں  یہ لوتھڑے دل کی شریانوں میں جم سکتے ہیں  اور ہارٹ اٹیک کے ساتھ دیگر بہت سے امراض کی وجہ بھی بن سکتے ہیں لہٰذا اس کے لیے دو کام ضروری ہیں کہ ذیابیطس کے مریض پانی کی مقدار پوری کریں اور خون کو پتلا کرنے والی جو دوائیں استعمال کررہے ہیں انہیں بھی جاری رکھیں جب کہ رمضان شروع ہونے سے قبل اپنے معالج سے بات چیت کرکے اپنی ادویات کے اوقات طے کرلیں۔
 ذیابیطس کے مریض: 
عام طور پر ذیابیطس کے مریض جتنی دوا صبح کے اوقات میں لیتے ہیں اس کی ساری مقدار شام میں لے لیتے ہیں اور سحری میں آدھی خوراک کھاتے ہیں۔ مثلاً ایک مریض  ایک گولی صبح ناشتےکے بعد اور ایک گولی شام میں لیتا ہے تو وہ رمضان میں عموماً ایک گولی روزہ کھولتے ہی لیتا ہے جب کہ سحری میں وہ آدھی گولی لیتا ہے اس کا بہترین مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے معالج سے دواؤں کے شیڈول پر مشورہ کریں اور خود سے خوراک تجویز کرنے سے گریز کریں۔
شوگر کے مریض کا ذہنی طور پر تیار رہنا:
ذیابیطس کے مریض کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کہ اسے کسی بھی وقت روزہ کھولنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ذیابیطس کے مریض کی شوگر60 یا اس سے نیچے چلی جائے یا پھر 300 یا اس سے اوپر ہوجائے تو وہ فوری طور پر روزہ کھول لے۔
 ذیابیطس اور سحری:
ذیابیطس کے مریض سحری میں ایسی غذائیں کھائیں جو دیر سے ہضم ہوں، عام حالات میں ذیابیطس کے مریض پراٹھا نہیں کھاسکتے لیکن وہ سحری میں کم تیل میں تلا ہوا پراٹھا کھاسکتے ہیں۔ دیر سے ہضم ہونے والی غذا میں حلیم بھی شامل ہے جس میں گھر کا حلیم بہتر تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں فائبر بہت زیادہ ہوتے ہیں جس سے ہمیں دیر سے بھوک لگتی ہے اوربہت دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس رہتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو کولیسٹرول بڑھنے کے خدشات کے باعث انڈے کے استعمال سے منع کیا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ انڈے کی زردی نقصان دہ نہیں ہوتی اور اس میں دماغ کو فائدہ پہنچانے والے اجزا ہوتے ہیں جو خون میں کولیسٹرول بڑھانے کا باعث نہیں بنتے، انڈے میں 250 ملی گرام کولیسٹرول کی بات عام تھی لیکن اب نئی تحقیق کے مطابق اس میں صرف 160 ملی گرام کولیسٹرول ہوتی ہے۔ شوگر کے مریض احتیاط کے طور پر نصف زردی کھاسکتے ہیں جو 80 ملی گرام کولیسٹرول کے برابر ہوتی ہے اوراگر تلے ہوئے انڈے سے پیاس زیادہ بڑھے تو انڈے کا شوربہ بھی بنایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ سبزی یا چکن کا سالن بھی بنایا جاسکتا ہے۔
ذیابیطس اور پیاس:
جن مریضوں کو پیاس زیادہ لگتی ہے وہ سحری میں الائچی کا قہوہ اس طرح استعمال کریں کہ سادہ چائے میں الائچی ابال لیں اور اس میں معمولی دودھ شامل کریں اس سے پیاس کم لگتی ہے اور اگر مریض کو بلڈ پریشر کا مسئلہ نہ ہو تو نمکین لسی پینے سے بھی روزے میں پیاس کم لگتی ہے۔
کھجلہ اور پھینی سے پرہیز:
کھجلہ اور پھینی میں گھی اور مضر صحت تیل کا استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس کے استعمال سے پرہیز کریں اور اس کے متبادل کے طور پر سویاں کھائی جاسکتی ہیں۔
 افطار:
ذیابیطس کے مریضوں کو افطار میں کھجورکھانے سے  منع کیا جاتا ہے جو غلط ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ ایک کھجور میں 6 گرام کاربوہائڈریٹس ہوتی ہیں جس میں معدنیات، فائبر ، فاسفورس اور پوٹاشیم ہوتا ہے ۔ افطار سے قبل آخری وقتوں میں تھکاوٹ اور بوجھل پن کی وجہ بھی پوٹاشیم میں کمی واقع ہوتی ہے جسے کھجور کھاکر فوری طور پر دور کیا جاسکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض ایک کھجور کھاسکتے ہیں اوراگر ان کی شوگر کنٹرول میں ہے تو وہ 2 کھجوریں بھی کھا سکتے ہیں،  پھلوں کی چاٹ بغیر چینی اور ملک کے کھائیں، کٹے ہوئے پھلوں میں تھوڑا سا لیموں شامل کرلیں توبہت فائدہ ہوگا۔ مشروب میں ایک گلاس لیموں پانی شامل کرلیں اور نمک چینی سے احتیاط کریں۔ ذیابیطس کے مریض گھر کا بنا ایک سموسہ اور چند پکوڑے استعمال کرسکتے ہیں جب کہ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ نمک،چینی اور تیل (گھی) کا ملاپ ذیابیطس کے مریض کے لیے بہت مضر ہوتا ہے۔
روزہ اور رات کا کھانا:
شوگر کے مریض رات کو ایک چپاتی ہلکے سالن کے ساتھ  یا سلاد اور رائتہ کے ساتھ ایک پلیٹ ابلے ہوئے چاول کھاسکتے ہیں اور سوتے وقت بھوک لگتی ہے تو ایک کپ دودھ لے سکتےہیں۔
ازخود علاج نہ کریں:
اگر آپ کا کوئی دوست ذیابیطس میں مبتلا ہے تب بھی اس کے مشوروں پر سنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے اس لیے اپنے ڈاکٹر کے مشوروں پر سختی سے عمل کریں اور خود سے دوا اور علاج کرنے سے دور رہیں۔
دل اور ذیابیطس کا سنگین مرض اور روزہ:
ایسے مریض جن کی شوگر مسلسل بڑھی رہتی ہے اور ایسے مریض جنہیں شوگر کم ہونے پر بار بار اپنے معالج سے رجوع کرنا پڑتا ہے وہ روزہ رکھنے سے گریز کریں اسی طرح بہت زیادہ انسولین لینے والے بھی روزہ نہ رکھیں۔ بار بار اسپتال جانے والے دل کے مریض، گردوں کے مرض میں مبتلا افراد اور حاملہ خواتین بھی روزہ نہ رکھیں۔
ذیابیطس کی اقسام:
ذیابیطس کے مریض کو دو درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جسے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کہا جاتا ہے۔
ٹائپ ون ذیابیطس:
ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ بہت ہی کم انسولین پیدا کرتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے یا لبلبہ انسولین بنانا مکمل طور پر بند کردیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کا دفاعی امنیاتی نظام خود لبلبے کے خلیات کو تباہ کرنا شروع کردیتا ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس:
ٹائپ ٹو ذیابیطس مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا لبلبہ انسولین تو پیدا کررہا ہوتا ہے لیکن وہ کچھ کارآمد اور کچھ بے کار ہوتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس ہوتے ہی لبلبہ ناکارہ انسولین بنانے لگتا ہے اور مفید انسولین بہت کم بنتی ہے اس کیفیت کو انسولین مزاحمت (ریزسٹنس) بھی کہاجاتا ہے جو ایک بہت خطرناک عمل ہے اس میں مریض میں دل کے امراض کا اتنا ہی خطرہ ہوتا ہے جو ایک باقاعدہ شوگر کے مریض کو ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں ہارٹ اٹیک تک ہوجاتا ہے اس مرض میں مریض کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ وہ زیادہ کھانے لگتا ہے اور اگلے مرحلے میں جسم میں انسولین میں تیزی سے کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں انرجی ڈرنکس کی وجہ سے نوجوانوں میں بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی شرح میں خطرناک اضافہ ہورہا ہے اس لیے ہر قسم کی انرجی ڈرنکس سے دور رہنا ضروری ہے اس کی جگہ ہمارے معاشرے میں لسی، سکنجوین، ستو اور تھادل وغیرہ قدرتی انرجی ڈرنکس ہیں جن کا استعمال توانائی فراہم کرتا ہے اور فائدہ مند بھی ہے۔  ایک اعدادو شمار کے مطابق یومیہ 2 سے 3 انرجی ڈرنکس پینے والے 20 سے 25 نوجوان روزانہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

Ramazan Ul Mubarik: Messengers Of Service, Compassion etc.....رمضان المبارک؛ خدمت، ہمدردی اور غم گساری کا پیام بر

روزہ اﷲ رب العزت کے لیے ہے اور وہی اس کا اجر دے گا۔ روزے کو عربی میں صوم کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنیٰ رک جانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں یہ اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جس میں ایک مسلمان اﷲ تعالیٰ کے حکم سے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تمام مفطرات سے رکا رہتا ہے۔ مفطرات کیا ہیں؟ یہ روزہ توڑنے والی چیزیں ہیں جیسے کھانا، پینا، شوہر و بیوی کی ملاقات وغیرہ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں عام زندگی میں حلال ہیں، مگر روزے کی حالت میں یہ حرام ہوجاتی ہیں اور روزہ ان اعمال کی وجہ سے فاسد ہوجاتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے اسی کے حکم کے مطابق طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ان اعمال سے بچنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کی اس تعریف اور عمل سے ہی روزے کا مقصد واضح ہو جاتا ہے جو اﷲ رب العالمین نے قرآن حکیم میں روزے کا حکم دیتے ہوئے بیان فرمایا ہے جس کامفہوم ہے
’’مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بنو۔‘‘
(سورۃ البقرہ آیت183)
اس آیۂ مبارکہ کے ترجمے سے صاف واضح ہورہا ہے کہ روزہ رکھنے کا مقصد تقوے کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے، اﷲ کا ڈر اپنے دل میں بسانا، یعنی کسی بھی کام کو کرنے سے قبل انسان کے دل میں یہ خیال شدت کے ساتھ پیدا ہوجائے کہ میں جو کام کرنے جارہا ہوں وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا حرام ہے؟ ایسا کرنے سے اﷲ کی ناراضی کا اندیشہ تو نہیں؟
روزے سے تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟ جب ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں قید ہوتا ہے جہاں اسے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس کا مواخذہ کرنے والا ہوتا ہے، اب نہ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ ہی دیگر جسمانی خواہشات پوری کرتا ہے۔
وہ ایسا کیوں نہیں کرتا؟
محض اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے روزے کی حالت میں اسے ان امور سے روک دیا ہے اور وہ بھی پورے ایک مہینے کے لیے! اس ایک مہینے کی تربیت سے مومنوں کے دلوں پر فطری اثرات مرتب ہوتے ہیں بشرطیکہ انسان خلوص دل اور شعور سے کوشش کرے۔ اس کے بعد اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف جم جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے کہ جب روزے کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے حلال چیزوں سے بھی اجتناب کرتا رہا ہوں تو جو چیزیں اﷲ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دی ہیں، ان کا ارتکاب میرے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ یا اگر مجھے اﷲ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے تو میں اس خالق کائنات کی نافرمانی کیوں کروں؟
چناں چہ یہ ماہ مبارک صرف روزہ رکھنے ہی کی ترغیب نہیں دیتا، بلکہ انسانی کردار کو نکھارنے کے لیے بعض کاموں سے انکار کروا کے اعمال صالحہ کی جانب راغب کرتا ہے۔ مثلاً روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا تو اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا رہے، یعنی اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس کے روزے کی کوئی اہمیت یا قدر نہیں۔
روزہ صرف کھانا، پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ روزہ تو ہر اس غلط سے روکتا ہے جو عام دنوں میں بھی جائز نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کے ساتھ جھگڑا اور فساد کرنے کی کوشش کرے تو اس سے بڑی نرمی سے کہہ دیا جائے کہ بھئی، مجھے معاف کرو، میں روزے سے ہوں۔
اکثر نوجوان اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا نظر آتے ہیں جو روزہ دار کے لیے جائز نہیں، مثلاً وہ اپنا وقت گزارنے یا روزہ بہلانے کے لیے ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، ٹی وی پر عجیب عجیب پروگرام دیکھتے ہیں، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ روزے کی حالت میں تو ہماری اسلامی و اخلاقی تربیت ہوتی ہے، مگر ہم اسے حاصل کرنے کے بجائے ناول یا افسانے پڑھ کر، دوست احباب کے ساتھ تاش یا شطرنج کھیل کر وقت گزارتے ہیں۔ حالت روزہ میں چغل خور ی کرنا، جھوٹ بولنا اور مذاق کے نام پر بے ہودہ حرکات کرنا سب ناجائز ہے اور یہ ساری بری باتیں تو ویسے بھی قابل مذمت اور قابل وعید ہیں۔ اس سب کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر روزے کی حالت میں بھی طنز کرتے ہیں، تاکہ روزہ دار کو جوش آجائے اور وہ کسی طرح غیر اخلاقی عمل کا مرتکب ہوجائے۔ یہی وقت روزے دار کے لیے ہوش کا ہے۔ ایسے موقع پر درگزر کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام نے روزے کی حالت میں قوت برداشت سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
روزہ دار کے لیے ایک اہم نکتے کی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اسے جھوٹ بولنے سے منع کیا جارہا ہے، وہاں یہ بھی تعلیم دی جارہی ہے کہ دھوکے اور فریب سے گریز کرے۔ مثلاً اگر وہ تاجر ہے تو جھوٹ بول کر اپنی اشیاء فروخت نہ کرے، اپنے ناقص مال کو چھپا کر نہ بیچے، بلکہ اس شے کا نقص گاہک پر واضح کردے۔ کاروبار میں اس قسم کی حرکات ویسے تو پورے سال ممنوع ہیں، مگر رمضان المبارک میں اور روزے کی حالت میں اس قسم کی حرکات کا ارتکاب دین سے غفلت ہی ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت نبی پاک ﷺ نے ارشاد  کامفہوم ہے: ’’ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنھیں روزہ رکھنے سے سوائے پیاس اور بھوک کے اور کچھ نہیں ملتا، اور کتنے ہی شب بیدار ایسے ہیں جنھیں بے خوابی کے سوا شب بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
سال بھر کے مہینوں میں ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے: پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر روزے کا ثواب عام دنوں سے دس گنا زیادہ رکھا گیا، بلکہ ایک نیکی کا اجر دس سے ستر گنا اور ایک مقام پر سات سو گنا بتایا گیا ہے۔ اور پھر جنت کے سات دروازوں میں سے ہر عمل کرنے والا گزارا جائے گا۔ روزہ داروں کے لیے ایک مخصوص دروازہ رکھا گیا ہے جس کا نام باب الریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار گزریں گے۔ اس ماہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
یہ مہینہ غریبوں اور مسکینوں سے ہم دردی اور غم گساری کا ہے۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔ اب یہ مہینہ آچکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کا شایان شان استقبال اس انداز سے کریں کہ اس مہینے میں اپنے معمولات سے ہٹ کر زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہیں، آخرت کی فکر کریں۔ آج ہی سے تمام برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے نیک اعمال کی جانب متوجہ ہوکر دنیا و آخرت کی کام یابی حاصل کریں۔

Fast Saves From Cancer, Heart Disease And Aging .....روزہ کینسر، امراض قلب اور بڑھاپے سے بچاتا ہے،

کیلی فورنیا: ماہرین کے مطابق اگر ایک ماہ میں پانچ مرتبہ  جسم کو دی جانے والی کیلریز کی نصف مقدار استعمال کی جائیں تو کینسر، ذیابیطس اور امراضِ قلب کے خطرے میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔
روزہ رکھنے سے دل، امراضِ قلب اور کینسر کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کم ازکم چھ گھنٹے تک صرف پانی پراکتفا کرنے سے بھی صحت پرغیرمعمولی اثرات مرتب ہوتے ہیں بشرطیکہ اس پر ایک ماہ میں کئ بار پابندی سے عمل کیا جائے۔ دوسری جانب بین الاقوامی ماہرین روزے کے درج ذیل فوائد بیان کرتے ہیں۔
وزن اور چکنائی میں کمی :
کئی اداکار اور کھلاڑی ہفتے میں ایک دو مرتبہ فاقہ کرتے ہیں یا پھر صرف پانی پر گزارہ کرتے ہیں  جس سے وزن گھٹانے اور جسم میں چکنائی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انسولین کی حساسیت میں بہتری :
فاقہ کرنےسے  جسم میں انسولین کی حساسیت بہترہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نظام ہاضمہ میں بہت بہتری پیدا ہوتی ہے اور بدن میں استحالہ ( میٹابولزم) کا عمل بھی بہترہوتا ہے۔
روزے سے عمر میں اضافہ :
مختلف تہذیب اور معاشروں کا مطالعہ کیا گیا ہے جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ کم کھانے سے ایک تو بڑھاپے کا عمل سست ہوتا ہے اور دوسرا فاقہ کشی کرنے والے افراد طویل عمر پاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی کبھی کبھار کم کھانے سے نظام ہاضمہ پرزور نہیں پڑتا اور خلیات میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل سست ہوتا ہے۔
روزہ اور دماغی صلاحیت میں بہتری :
ماہرین کا کہنا ہے کہ فاقے سے دماغی افعال میں بہت بہتری پیدا ہوتی ہے۔ روزہ رکھنے سے دماغ میں بی ڈی این ایف نامی ایک پروٹین کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ اس سے دماغ میں نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں اور دماغ کے لیے مفید کیمکلز کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پارکنسن اور الزائیمر جیسے امراض کا راستہ بھی رک جاتا ہے۔
فاقے سے کینسر اور ذیابیطس میں کمی :
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ اگر ایک ماہ میں پانچ دفعہ فاقے کی کیفیت سے گزرا جائے یا خوراک میں موجود کیلریز کی مقدار آدھی کردی جائے تو اس سے کینسر، ذیابیطس اور دیگر موذی امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے رضاکاروں کو 3 ماہ تک اس پروگرام پرعمل کرانے کے بعد ان کا جائزہ لیا تو ان میں امراض قلب، کینسراورعمررسیدگی کے اثرات کم دیکھے گئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام ہاضمہ کو آرام دینے سے بدن میں کئی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو کئی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔

Welcome Ramazan & Islamic Orders That Must Be Followed...خوش آمدید رمضان

رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہوجائیے۔ ہم مسلم ہیں اور ہمیں سلامتی کا درس دیا گیا ہے۔ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی بسر کرنے کے احکامات دیے ہیں اور اسلام کا تقاضا ہے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ رمضان میں نیکی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو اسلامی احکامات کے مطابق بسر کریں گے۔
رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا
٭ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
٭ کبیرہ گناہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو بے گناہ قتل کرنا اور جھوٹی شہادت دینا ہے۔
٭ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں؟ جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو کھانا، میدان جہاد سے بھاگنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
٭ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔
٭ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور سکھائے۔
٭ اﷲ کے نزدیک سب اعمال میں وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
٭ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
٭ صفائی یعنی طہارت نصف ایمان ہے۔
٭ اﷲ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ مساجد ہیں۔
٭ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اﷲ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا۔
٭ مومن ایک بل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا ہے۔
٭ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا۔ مریض کی عیادت کرنا۔ جنازے کے ساتھ جانا۔ اس کی دعوت قبول کرنا۔ چھینک کا جواب یرحمک اﷲ کہہ کر دینا۔
٭ اﷲ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔
٭ ظلم قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔
٭ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
٭ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ گیر رہتا ہے۔
٭ رشتہ توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
٭ اگر کوئی شخص (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اﷲ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
٭ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو بات سنے (بغیر تحقیق کے ) لوگوں سے بیان کرنا شروع کردے۔
٭ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا پڑوسی اس کی ایذا سے محفوظ نہ ہو۔
٭ تم میں سے وہ شخص میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے، جو اچھے اخلاق والا ہو۔
٭ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں آتی، اور جو بندہ درگذر کرتا ہے اﷲ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو بندہ اﷲ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے تو اﷲ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔
٭ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے، یعنی اس پر بھی اجر ملے گا۔
٭ تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، اسے نکاح کرلینا چاہیے کیوںکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو کوئی نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزے رکھے کیوںکہ یہ اس کے لیے نفسانی خواہشات میں کمی کا باعث ہوگا۔
٭ عورت سے نکاح چار چیزوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندان کے شرف کی وجہ سے، اس کی خوب صورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دین دار عورت سے نکاح کرو۔
٭ اﷲ کی قسم! مجھے تمہارے لیے غریبی کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کہیں تمہارے لیے دنیا یعنی مال و دولت کھول دیا جائے اور تم اس کے پیچھے پڑجاؤ، پھر وہ مال و دولت پہلے لوگوں کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔
٭ اﷲ اس بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔
٭ جب امانتوں میں خیانت ہونے لگے تو بس قیامت کا انتظار کرو۔
٭ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
٭ مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اﷲ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔
٭ تمہیں اپنے کم زوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔
٭ اﷲ ایسے شخص پر رحم کرے جو فروخت کرتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت (قرض وغیرہ ) فیاضی اور وسعت سے کام لیتا ہے۔
٭ کھا، پیو، پہنو اور صدقہ کرو، لیکن فضول خرچی اور تکبر کے بغیر۔
٭ رشک دو ہی آدمیوں پر ہوسکتا ہے، ایک وہ جسے اﷲ نے مال دیا اور اسے مال کو راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوئی ہے۔ اور دوسرا وہ جسے اﷲ نے حکمت دی ہے اور وہ اس کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔
٭ مومنین کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت میں بدن کی طرح ہے۔ بدن میں سے جب کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن نیند نہ آنے اور بخار آنے میں شریک ہوتا ہے۔
٭ آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیچھے پیٹھ برائی نہ کرو، بلکہ اﷲ کے بندے اور آپس میں بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔
٭ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔
یہ مضمون صحیح بخاری و مسلم کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔

Tuesday, 30 June 2015

Vitamin Saad....... وٹامن ’’ص’’

اگرچہ وہ شخص ڈاکٹر نہیں تھا مگر طبیب ضرور تھا۔ عجب المیہ ہے کہ ہمیں ڈاکٹر اور طبیب کا فرق بھی سمجھ نہیں آتا۔ طبی اصطلاح میں ڈاکٹر ہر وہ شخص کہلا سکتا ہے جس کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری ہو مگر طبیب تو وہی ہے جو علاج کرنے کا ہنر جانتا ہو اور یہ بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں کہ بہت کم ڈاکٹر ہی طبیب کے مقام پر فائز ہوتے ہیں وگرنہ تو اکثریت محض ’’پریکٹس‘‘ ہی کر رہی ہے۔خیر اُس نے مجھے دیکھا اور کافی دیر دیکھتا رہا اور پھر خاموش ہوگیا۔ مجھےحیرانی ہوئی، کیا ہوا؟ میں نے سبب دریافت کیا تو بولا کہ تم میں ’’وٹامن ص‘‘ کی کمی ہے۔
اس کے بولنے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ میں بے ساختہ پوچھ پڑا کہ ’’سعد، ہائیں یہ کونسا وٹامن ہوتا ہے، اب وٹامن بھی نیک بخت ہونے لگے ہیں؟‘‘ سعد نہیں ص! ص، ض، ط، ظ والا ص ۔۔۔۔ اس نےمیری تصحیح کی۔
خالی ’’ص‘‘
ہاں خالی ص
وہ کیا ہوتا ہے، میں نے تجسس سے پوچھا۔
یہ بھی ایک وٹامن ہوتا ہے جس کی کمی روحانی بیماریوں کوجنم دیتی ہے۔
خد اکا شکر ہے کہ مجھے کوئی روحانی بیماری نہیں ہے۔
یہ تو تمھارا خیال ہے، تمھاری بیماری تو چہرے سےعیاں ہے۔ تمھارا ہر ہر فعل اس کا غماز ہے۔
آخر یہ ص کیا ہے پہلے یہ تو بتاؤ؟ میں نےغصے سے پوچھا تو وہ بولا کہ تعجب ہے کہ تم اس خاکی، فانی جسم کیلئے تو وٹامن استعمال کرنا شروع کر دیتے ہو مگر روح کے وٹامن کو فراموش کر دیتے ہو۔ اگر جسم کو وٹامن کی ضرورت ہوسکتی ہے تو کیا روح کو وٹامن کی ضرورت نہیں ہوسکتی؟
نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جسم مادی شے ہے جبکہ روح اس سے مبرا ہے۔
ہوتی ہے، بالکل ہوتی ہے اور روح کو سب سے زیادہ ضرورت اسی ’’وٹامن ص‘‘ کی ہوتی ہے۔ اس ایک وٹامن میں ہی روح کو درکار تمام اشیاء پوشیدہ ہیں۔
کیا اب مجھے بتاؤگے کہ یہ وٹامن ص ہوتا کیا ہے؟
چلو سنو ’’ص‘‘ سے مراد ہے۔
صلاۃ: نماز
صوم: روزہ
صبر
صدقہ
صلح
صلہ رحمی
یہ ایک وٹامن جہاں روحِ انسانی کو روحانی خزانوں سے مالا مال کرتا ہے وہیں 6 ایسی تعلیمات دیتا ہے کہ جن پر اگر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے تو یہ دنیا بھی جنت کا نمونہ پیش کرنے لگے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تم میں ان تمام اجزاء کی بہت کمی ہے۔
میں نے سر جھکا لیا کہ اس کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ مجھ میں وٹامن ص کی واقعی بہت کمی ہے۔
اب بھی تمھارے پاس موقع ہے کہ تم اس ماہِ صیام سے فائدہ اٹھاؤ اور اس وٹامن کی کمی کو دور کرو مگر خیال رہے کہ ’’صلاۃ‘‘ کے فریضہ کی ادائیگی اگر رسم کی بجائےعبودیت کے اظہار کے طور پر کرو گے تو ہی یہ روح کو بالیدگی عطا کرے گی۔ اگر ’’صوم‘‘ محض فاقے کا نام نہیں ہوگا، آنکھ، ناک، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں سمیت جسم کے ہر ہرعضو کا روزہ ہوگا تو ہی صوم وٹامن ص کا جز بن سکے گا۔نجانے کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ تم اس ایک مہینے کو ’’کڑوا گھونٹ‘‘ سمجھ کر گزار رہے ہو اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے بداعمالیوں کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈالے ہوئے ہو کہ جونہی یہ مہینہ ختم ہو تم دوبارہ اُسی روش پرآسکو۔ یہ مہینہ تمھیں اپنی رحمتوں سے دامن بھرنے کی ترغیب دے رہا ہے مگر تم گن گن کر دن گزار رہے ہو کہ کب تم اپنی ’’اصل روٹین‘‘ پر واپس آسکو۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟
میں اب خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا کیونکہ میرے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ بھی باقی نہیں تھا۔
’’صبر‘‘ کا تو خیر ذکر ہی کیا وہ تم میں کس قدر پایا جاتا ہے وہ ایک ٹریفک سگنل پر ہی ظاہر ہوجاتا ہے یا بینک کی لائن میں یا بازار کی بھیڑ میں۔ یہاں پر مجھے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔
جہاں تک وٹامن ص کے ’’صدقہ‘‘ کی بات ہے تو قرآن کی یہ بات ذہن نشین کرلو کہ ’’شیطان تمھیں عسرت وتنگی سے ڈراتا ہے‘‘ حالانکہ ’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا‘‘۔ تم جو مال کو گن گن کر رکھتے ہو بھول گئے ہو کہ اس حوالے سے کتنی سخت وعید آئی ہے۔
’’صلح‘‘ کا میں کیا ذکر کروں، تم جانتے ہوکہ ’’کسی بھی مومن کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے (مسلمان) بھائی سے قطع تعلق کرے‘‘ لیکن اس کے باوجود بھی کتنے لوگوں کا تم نام بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ خود ہی اپنے گریبان میں جھانک لو میں اب کیا کیا تمھیں بتاؤں؟
’’صلہ رحمی‘‘ کے احکام تو اس قدر واضح ہیں کہ پڑوسی سے لیکر قریبی رشتہ داروں تک سبھی کے حقوق بیان کردئیے گئے مگر تم خود اپنا حال دیکھ لو۔ کیا تم نے کبھی اس سے جڑنے کی کوشش کی جو تم سے کٹتا ہے؟
تم میں وٹامن ص کی شدید کمی ہے اور میری تمہیں نصیحت ہے کہ فوری طور پر اس طرف توجہ دو وگرنہ معاملات ہاتھ سے نکل گئے تو شدید قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
یہ کہہ کر’’ضمیر‘‘چپ ہوگیا۔ انسان کی روح کا سب سے بڑا طبیب اس کا ضمیر ہی تو ہوتا ہے، وہ جانتا ہےکہ روح میں کہاں پر خرابی ہے، کہاں پر کیا رکاوٹ ہے، کس چیز کی کمی ہے۔ میں جو جسم نکھارنے کو آئینے کے آگے کھڑا ہوا تھا، ضمیر نے مجھے دیکھ  کر میرے سارے روحانی امراض بیان کردئیے۔ میں نے خود سےعہد تو کیا ہے کہ اس ماہِ مبارک میں وٹامن ص کی کمی پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا مگر بندہِ بشر ہوں، خطا کا پتلا ہوں، نسیان کا مریض ہوں۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ دعا کیجئے گا کہ خدا مجھے صبر و استقامت دے اور اس وٹامن ص کی کمی سے نجات عطا فرمائے۔آمین!

Friday, 26 June 2015

Juice / Natural Beverages: Ist Priority OF Fasting Muslims....شربت،مشروبات روزہ داروں کی اولین ترجیح!

افطار کے وقت چاہے کتنے ہی انواع و اقسام کے لوازمات دسترخوان پر کیوں نہ سجے ہوں لیکن نظریں صرف اس جگ پر ٹک جاتی ہیں جس میں ٹھنڈا ٹھار اور مزے دار شربت بنا ہوا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ کھجور کا لقمہ لینے کے بعد آپ کا دل بھی میری طرح ایک گلاس شربت پینے کا ضرور چاہتا ہوگا۔ یہ قدرت کا اصول بھی ہے کہ انسان کچھ کھائے بغیر تو رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر گزارا ممکن نہیں خصوصاََ موسم گرما میں پیاس کی شدت میں اضافہ بھی پانی کی طلب کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

حالیہ ایام میں کراچی میں پڑنے والی شدید گرمی نے مشروبات کے استعمال میں مزید اضافہ کر یا ہے اور ماہرینِ صحت نے بھی پانی کی کمی کو پورا کرنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لئے بھی پانی اور صحت بخش مشروبات کے استعمال پر زور دیا ہے تاکہ گرم موسم کے اثرات سے بچا جاسکے۔ گرم موسم میں انسانی جسم میں پسینہ آنے کی وجہ سے نمکیات میں کمی ہوجاتی ہے اور خاص کر رمضان المبارک جو کہ اب گرمی کے موسم میں آتا ہے اس لیے سحر وافطار کے اوقات میں نمکیات کی کمی کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔
ہر موسم اپنے ساتھ سوغات لے کر آتا ہے اور بات جب رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی ہو تو پھر اہتمام بھی عام دنوں سے ہٹ کر کیا جاتا ہے لیکن اس اہتمام میں عبادتوں کو بھی خاص اہمیت دینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ہم آپ کی یہ مشکل آسان کردیتے ہیں اور آپ کی توجہ ایسے مشروبات کی طرف مبذول کروادیتے ہیں جو آپکا قیمتی وقت بھی نہ لیں اور آپ کو تازہ دم بھی کردیں۔
لسی
برصغیر کا روایتی اور مشہور مشروب ’’لسی‘‘ کو سمجھتا جاتا ہے جو نا صرف پاکستان اور بھارت میں پسند کی جاتی ہے بلکہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی بے حد شوق سے پی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں دہی کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے، اس لیے میٹھی یا نمکین لسی کو سحر وافطار کا حصہ بنا لیجیے، ٹھنڈی ٹھنڈی اور مزے دار لسی سے نہ صرف ہاضمہ درست رہتا ہے بلکہ لسی گرم ہوا سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

سکنجبین یا لیموں کا شربت
اب ذرا بات لیموں کے شربت یعنی سکنجبین کی ہوجائے، لیموں کا رس، چینی اور پانی کے مرکب سے بننے والا کٹھا میٹھا شربت نہایت لذیذ لگتا ہے۔ لیموں پانی ایشیا میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا، کینیڈا، یورپ اور افریقی ممالک میں بھی کافی شوق سے پیا جاتا ہے۔ لیموں بھی نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے، اِس کے علاوہ پتھری کے مرض میں بھی کافی فائدہ پہنچاتا ہے، لیموں کا شربت دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مینگوشیک
پھلوں کے رس کا ذکر ہورہا ہے تو پھلوں کے بادشاہ آم پر بات کیے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔ آم کا ملک شیک بچوں اور بڑوں میں خاصا مقبول ہے، اِسی طرح کیری کا شربت بھی افادیت کا حامل ہے اور گرم موسم میں کیری کا شربت پیٹ کو ٹھنڈا رکھتا ہے، رس بھرے فالسے بھی گرمی کی سوغات میں سے ایک ہے۔ فالسے کا مزے دار شربت پاکستان اور بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک میں شوق سے پیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں فالسے کا شربت غذائیت بھی دیتا ہے اور پیٹ کے امراض سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تھادل
سندھ کا مشہور زمانہ گرمی کا دشمن جسے’’ تھادل‘‘ کہا جاتا ہے جو انتہائی شوق سے پیا جاتا ہے۔ اِس میں شامل بادام، چہار مغز، سونف، سبز الائچی، خشخاش اور زیرہ پیس کے دودھ میں شامل کیا جاتا ہے لیکن گرم موسم میں پانی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ٹھنڈا مزے دار تھادل بھی افطار میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کی مصروفیت زیادہ ہے تو مارکیٹ میں مزے دار تیار شدہ مشروبات بھی موجود ہیں جسے فوری پانی میں حل کیجیے اور ٹھنڈے شربت کا مزہ لیجیے، یوں تو مشروبات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن آج تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
یہ ماہ مقدس سحر و افطار کی بے پناہ رحمتوں اور نعمتوں سے تو نوازتا ہی ہے، اِس کے ساتھ ساتھ صبر و برداشت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس بھی دیتا ہے۔ اِس لیے ایک گلاس ٹھنڈا شربت ان کو بھی دیجیے گا جو آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔