Tuesday, 30 June 2015

Vitamin Saad....... وٹامن ’’ص’’

اگرچہ وہ شخص ڈاکٹر نہیں تھا مگر طبیب ضرور تھا۔ عجب المیہ ہے کہ ہمیں ڈاکٹر اور طبیب کا فرق بھی سمجھ نہیں آتا۔ طبی اصطلاح میں ڈاکٹر ہر وہ شخص کہلا سکتا ہے جس کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری ہو مگر طبیب تو وہی ہے جو علاج کرنے کا ہنر جانتا ہو اور یہ بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں کہ بہت کم ڈاکٹر ہی طبیب کے مقام پر فائز ہوتے ہیں وگرنہ تو اکثریت محض ’’پریکٹس‘‘ ہی کر رہی ہے۔خیر اُس نے مجھے دیکھا اور کافی دیر دیکھتا رہا اور پھر خاموش ہوگیا۔ مجھےحیرانی ہوئی، کیا ہوا؟ میں نے سبب دریافت کیا تو بولا کہ تم میں ’’وٹامن ص‘‘ کی کمی ہے۔
اس کے بولنے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ میں بے ساختہ پوچھ پڑا کہ ’’سعد، ہائیں یہ کونسا وٹامن ہوتا ہے، اب وٹامن بھی نیک بخت ہونے لگے ہیں؟‘‘ سعد نہیں ص! ص، ض، ط، ظ والا ص ۔۔۔۔ اس نےمیری تصحیح کی۔
خالی ’’ص‘‘
ہاں خالی ص
وہ کیا ہوتا ہے، میں نے تجسس سے پوچھا۔
یہ بھی ایک وٹامن ہوتا ہے جس کی کمی روحانی بیماریوں کوجنم دیتی ہے۔
خد اکا شکر ہے کہ مجھے کوئی روحانی بیماری نہیں ہے۔
یہ تو تمھارا خیال ہے، تمھاری بیماری تو چہرے سےعیاں ہے۔ تمھارا ہر ہر فعل اس کا غماز ہے۔
آخر یہ ص کیا ہے پہلے یہ تو بتاؤ؟ میں نےغصے سے پوچھا تو وہ بولا کہ تعجب ہے کہ تم اس خاکی، فانی جسم کیلئے تو وٹامن استعمال کرنا شروع کر دیتے ہو مگر روح کے وٹامن کو فراموش کر دیتے ہو۔ اگر جسم کو وٹامن کی ضرورت ہوسکتی ہے تو کیا روح کو وٹامن کی ضرورت نہیں ہوسکتی؟
نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جسم مادی شے ہے جبکہ روح اس سے مبرا ہے۔
ہوتی ہے، بالکل ہوتی ہے اور روح کو سب سے زیادہ ضرورت اسی ’’وٹامن ص‘‘ کی ہوتی ہے۔ اس ایک وٹامن میں ہی روح کو درکار تمام اشیاء پوشیدہ ہیں۔
کیا اب مجھے بتاؤگے کہ یہ وٹامن ص ہوتا کیا ہے؟
چلو سنو ’’ص‘‘ سے مراد ہے۔
صلاۃ: نماز
صوم: روزہ
صبر
صدقہ
صلح
صلہ رحمی
یہ ایک وٹامن جہاں روحِ انسانی کو روحانی خزانوں سے مالا مال کرتا ہے وہیں 6 ایسی تعلیمات دیتا ہے کہ جن پر اگر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے تو یہ دنیا بھی جنت کا نمونہ پیش کرنے لگے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تم میں ان تمام اجزاء کی بہت کمی ہے۔
میں نے سر جھکا لیا کہ اس کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ مجھ میں وٹامن ص کی واقعی بہت کمی ہے۔
اب بھی تمھارے پاس موقع ہے کہ تم اس ماہِ صیام سے فائدہ اٹھاؤ اور اس وٹامن کی کمی کو دور کرو مگر خیال رہے کہ ’’صلاۃ‘‘ کے فریضہ کی ادائیگی اگر رسم کی بجائےعبودیت کے اظہار کے طور پر کرو گے تو ہی یہ روح کو بالیدگی عطا کرے گی۔ اگر ’’صوم‘‘ محض فاقے کا نام نہیں ہوگا، آنکھ، ناک، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں سمیت جسم کے ہر ہرعضو کا روزہ ہوگا تو ہی صوم وٹامن ص کا جز بن سکے گا۔نجانے کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ تم اس ایک مہینے کو ’’کڑوا گھونٹ‘‘ سمجھ کر گزار رہے ہو اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے بداعمالیوں کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈالے ہوئے ہو کہ جونہی یہ مہینہ ختم ہو تم دوبارہ اُسی روش پرآسکو۔ یہ مہینہ تمھیں اپنی رحمتوں سے دامن بھرنے کی ترغیب دے رہا ہے مگر تم گن گن کر دن گزار رہے ہو کہ کب تم اپنی ’’اصل روٹین‘‘ پر واپس آسکو۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟
میں اب خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا کیونکہ میرے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ بھی باقی نہیں تھا۔
’’صبر‘‘ کا تو خیر ذکر ہی کیا وہ تم میں کس قدر پایا جاتا ہے وہ ایک ٹریفک سگنل پر ہی ظاہر ہوجاتا ہے یا بینک کی لائن میں یا بازار کی بھیڑ میں۔ یہاں پر مجھے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔
جہاں تک وٹامن ص کے ’’صدقہ‘‘ کی بات ہے تو قرآن کی یہ بات ذہن نشین کرلو کہ ’’شیطان تمھیں عسرت وتنگی سے ڈراتا ہے‘‘ حالانکہ ’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا‘‘۔ تم جو مال کو گن گن کر رکھتے ہو بھول گئے ہو کہ اس حوالے سے کتنی سخت وعید آئی ہے۔
’’صلح‘‘ کا میں کیا ذکر کروں، تم جانتے ہوکہ ’’کسی بھی مومن کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے (مسلمان) بھائی سے قطع تعلق کرے‘‘ لیکن اس کے باوجود بھی کتنے لوگوں کا تم نام بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ خود ہی اپنے گریبان میں جھانک لو میں اب کیا کیا تمھیں بتاؤں؟
’’صلہ رحمی‘‘ کے احکام تو اس قدر واضح ہیں کہ پڑوسی سے لیکر قریبی رشتہ داروں تک سبھی کے حقوق بیان کردئیے گئے مگر تم خود اپنا حال دیکھ لو۔ کیا تم نے کبھی اس سے جڑنے کی کوشش کی جو تم سے کٹتا ہے؟
تم میں وٹامن ص کی شدید کمی ہے اور میری تمہیں نصیحت ہے کہ فوری طور پر اس طرف توجہ دو وگرنہ معاملات ہاتھ سے نکل گئے تو شدید قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
یہ کہہ کر’’ضمیر‘‘چپ ہوگیا۔ انسان کی روح کا سب سے بڑا طبیب اس کا ضمیر ہی تو ہوتا ہے، وہ جانتا ہےکہ روح میں کہاں پر خرابی ہے، کہاں پر کیا رکاوٹ ہے، کس چیز کی کمی ہے۔ میں جو جسم نکھارنے کو آئینے کے آگے کھڑا ہوا تھا، ضمیر نے مجھے دیکھ  کر میرے سارے روحانی امراض بیان کردئیے۔ میں نے خود سےعہد تو کیا ہے کہ اس ماہِ مبارک میں وٹامن ص کی کمی پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا مگر بندہِ بشر ہوں، خطا کا پتلا ہوں، نسیان کا مریض ہوں۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ دعا کیجئے گا کہ خدا مجھے صبر و استقامت دے اور اس وٹامن ص کی کمی سے نجات عطا فرمائے۔آمین!

Friday, 26 June 2015

Juice / Natural Beverages: Ist Priority OF Fasting Muslims....شربت،مشروبات روزہ داروں کی اولین ترجیح!

افطار کے وقت چاہے کتنے ہی انواع و اقسام کے لوازمات دسترخوان پر کیوں نہ سجے ہوں لیکن نظریں صرف اس جگ پر ٹک جاتی ہیں جس میں ٹھنڈا ٹھار اور مزے دار شربت بنا ہوا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ کھجور کا لقمہ لینے کے بعد آپ کا دل بھی میری طرح ایک گلاس شربت پینے کا ضرور چاہتا ہوگا۔ یہ قدرت کا اصول بھی ہے کہ انسان کچھ کھائے بغیر تو رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر گزارا ممکن نہیں خصوصاََ موسم گرما میں پیاس کی شدت میں اضافہ بھی پانی کی طلب کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

حالیہ ایام میں کراچی میں پڑنے والی شدید گرمی نے مشروبات کے استعمال میں مزید اضافہ کر یا ہے اور ماہرینِ صحت نے بھی پانی کی کمی کو پورا کرنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لئے بھی پانی اور صحت بخش مشروبات کے استعمال پر زور دیا ہے تاکہ گرم موسم کے اثرات سے بچا جاسکے۔ گرم موسم میں انسانی جسم میں پسینہ آنے کی وجہ سے نمکیات میں کمی ہوجاتی ہے اور خاص کر رمضان المبارک جو کہ اب گرمی کے موسم میں آتا ہے اس لیے سحر وافطار کے اوقات میں نمکیات کی کمی کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔
ہر موسم اپنے ساتھ سوغات لے کر آتا ہے اور بات جب رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی ہو تو پھر اہتمام بھی عام دنوں سے ہٹ کر کیا جاتا ہے لیکن اس اہتمام میں عبادتوں کو بھی خاص اہمیت دینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ہم آپ کی یہ مشکل آسان کردیتے ہیں اور آپ کی توجہ ایسے مشروبات کی طرف مبذول کروادیتے ہیں جو آپکا قیمتی وقت بھی نہ لیں اور آپ کو تازہ دم بھی کردیں۔
لسی
برصغیر کا روایتی اور مشہور مشروب ’’لسی‘‘ کو سمجھتا جاتا ہے جو نا صرف پاکستان اور بھارت میں پسند کی جاتی ہے بلکہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی بے حد شوق سے پی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں دہی کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے، اس لیے میٹھی یا نمکین لسی کو سحر وافطار کا حصہ بنا لیجیے، ٹھنڈی ٹھنڈی اور مزے دار لسی سے نہ صرف ہاضمہ درست رہتا ہے بلکہ لسی گرم ہوا سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

سکنجبین یا لیموں کا شربت
اب ذرا بات لیموں کے شربت یعنی سکنجبین کی ہوجائے، لیموں کا رس، چینی اور پانی کے مرکب سے بننے والا کٹھا میٹھا شربت نہایت لذیذ لگتا ہے۔ لیموں پانی ایشیا میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا، کینیڈا، یورپ اور افریقی ممالک میں بھی کافی شوق سے پیا جاتا ہے۔ لیموں بھی نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے، اِس کے علاوہ پتھری کے مرض میں بھی کافی فائدہ پہنچاتا ہے، لیموں کا شربت دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مینگوشیک
پھلوں کے رس کا ذکر ہورہا ہے تو پھلوں کے بادشاہ آم پر بات کیے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔ آم کا ملک شیک بچوں اور بڑوں میں خاصا مقبول ہے، اِسی طرح کیری کا شربت بھی افادیت کا حامل ہے اور گرم موسم میں کیری کا شربت پیٹ کو ٹھنڈا رکھتا ہے، رس بھرے فالسے بھی گرمی کی سوغات میں سے ایک ہے۔ فالسے کا مزے دار شربت پاکستان اور بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک میں شوق سے پیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں فالسے کا شربت غذائیت بھی دیتا ہے اور پیٹ کے امراض سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تھادل
سندھ کا مشہور زمانہ گرمی کا دشمن جسے’’ تھادل‘‘ کہا جاتا ہے جو انتہائی شوق سے پیا جاتا ہے۔ اِس میں شامل بادام، چہار مغز، سونف، سبز الائچی، خشخاش اور زیرہ پیس کے دودھ میں شامل کیا جاتا ہے لیکن گرم موسم میں پانی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ٹھنڈا مزے دار تھادل بھی افطار میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کی مصروفیت زیادہ ہے تو مارکیٹ میں مزے دار تیار شدہ مشروبات بھی موجود ہیں جسے فوری پانی میں حل کیجیے اور ٹھنڈے شربت کا مزہ لیجیے، یوں تو مشروبات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن آج تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
یہ ماہ مقدس سحر و افطار کی بے پناہ رحمتوں اور نعمتوں سے تو نوازتا ہی ہے، اِس کے ساتھ ساتھ صبر و برداشت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس بھی دیتا ہے۔ اِس لیے ایک گلاس ٹھنڈا شربت ان کو بھی دیجیے گا جو آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔